تعارف سکھ مذہب اور اس کے عقائد و نظریات

Bookmark and Share

تعارف سکھ مذہب اور اس کے عقائد و نظریات

سکھ مذہب کے بانی گرو نانک صاحب تھے جو لاہور سے تقریباً پچاس میل جنوب مغرب میں واقع ایک گاؤں تلونڈی میں ۱۴۶۹ءمیں پیدا ہوئے، جو اب ننکانہ صاحب کہلاتا ہے، والد کا نام مہتا کالو تھا، بیدی کھتری خاندان سے تعلق رکھتے تھے، گرو نانک نے ابتدائی عمر میں سنسکرت اور ہندو مذہب کی مقدس کتابوں کا علم حاصل کیا، پھر گاؤں کی مسجد کے مکتب میں عربی اور فارسی کی تعلیم بھی حاصل کی، بچپن ہی سے مذہبی لگاؤ رکھتے تھے، جو روز بروز بڑھتا گیا، پنجاب کے مشہور صوفیاء کرام شیخ اسماعیل بخاری، سید علی ہجویری، بابا فرید، علاء الحق، جلال الدین بخاری، مخدوم جہانیاں اور دوسرے بزرگوں سے کسبِ فیض کیا، اسی وجہ سے نانک صاحب کے مسلمان ہونے کا عقیدہ ان کی زندگی ہی سے مسلمانوں میں چلا آرہا ہے، نانک صاحب نے پچیس سال تک سفر کئے، ۱۴۹۷ء میں انہوں نے اسفار کا سلسلہ شروع کیا، پہلا سفر، مشرقی ہندوستان میں بنگال، آسام، اڑیسہ اورراجستھان کا کیا، دوسرے سفر میں جنوب کی طرف گئے اور سری لنگا تک پہنچے، تیسرا سفر شمال کی طرف کیا، اس سفر میں ہمالیہ کی پہاڑی ریاستوں اور کشمیر ہوتے ہوئے تبت تک گئے، چوتھا سفر سعودی عرب، عراق، ایران اور وسط ایشیاء تک ہوا، اسی سفر میں گرو نانک نے ایک حاجی اور مسلم فقیر جیسا لباس اختیار کیا اور حج بھی کیا، واپسی پر ایک گاؤں کی بنیاد ڈالی جس کا نام کرتار پور رکھا اور وہیں بس گئے، زندگی کے آخری ایام میں اپنے ایک مرید ’’راہنا‘‘ کو گرو کے منصب پر فائز کیا اور خود رحلت فرما گئے، گرو نانک خالص توحید کے قائل تھے، رسالت کے قائل تھے، تمام ارکانِ اسلام نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کے قائل تھے، خود حج کیا تھا، قرآن مجید اور آسمانی کتابوں کے قائل تھے، قیامت کے قائل تھے، ختمِ نبوت کے قائل تھے اور اس پر ایمان لانے کا حکم فرماتے تھے۔

(گرنتھ صاحب، راک محلہ:۲۴، بحوالہ ہندوستانی مذاہب:۶۷۔ مذاہبِ عالم:۲۰۳، جسنم ساکھی:۱؍۲۲۱، بحوالہ ہندوستانی مذاھب۔)

 

سکھوں کی مقدس مذہبی کتاب ’’گرنتھ صاحب‘‘ ہے، جو سکھوں کے پانچویں گرو ’’ارجن سنگھ‘‘ نے تیار کی، گرنتھ صاحب کے سارے کلام میں ’’مول منتر‘‘ (بنیادی کلمہ) کو سب سے مقدس سمجھا جاتا ہے، مول منتر کا مفہوم یہ ہے کہ:

’’خدا ایک ہے، اسی کا نام سچ ہے، وہی قادرِ مطلق ہے، وہ بے خوف ہے، اسے کسی سے دشمنی نہیں، وہ ازلی و ابدی ہے، بے شکل و صورت ہے، قائم بالذات ہے، خود اپنی رضا اور توفیق سے حاصل ہوجاتا ہے‘‘۔

(ہندوستانی مذاہب:۶۳)

 

مول منتر کے بعد دوسرا درجہ ’’جپ جی‘‘ کو حاصل ہے، گرو نانک کی تعلیمات عشقِ الہٰی کے حصول پر بڑا زور دیا گیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ عشقِ الہٰی حاصل کرنے کے لئے انسان کو انانیت، خواہشاتِ نفس، لالچ دنیا سے تعلق اور غصہ کو چھوڑنا ضروری ہے، سکھ مذہب میں بنیادی طریقِ عبادت ’’نام سمرن‘‘ یعنی ذکر الٰہی ہے، یہ خدا کا نام لیتے رہنے کا ایک عام طریقہ ہے، جس کے لئے چھوٹی تسبیح کا بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اجتماعی شکل میں باجماعت موسیقی کے ساتھ گرنتھ صاحب کے کلام کا ورد بھی ہوتا ہے۔

(ہندوستانی مذاہب:۶۳)

عشقِ الہٰی کے حصول کے لئے ’’نام سمرن‘‘ کے علاوہ سادھو سنگت، سیلوا، ایمانداری کی روزی، عجز و انکساری اور مخلوق خدا سے محبت و ہمدردی کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

گرونانک تناسخ کے بھی قائل بتلائے گئے ہیں، ان کے خیال میں جب تک انسان عشقِ الہٰی میں کمال حاصل کرکے خدا کو نہیں پالیتا وہ بار بار اسی دنیا  میں جنم لیتا رہے گا، اسی طرح ان بے شمار زندگیوں کی تعداد ایک لاکھ چوراسّی ہزار (۱۸۴۰۰۰) بتلائی گئی ہے۔

(ہندوستانی مذاہب:۶۴)

گرو نانک صاحب کی تعلیم میں ’’گرو‘‘ کا تصور مرکزی حیثیت رکھتا ہے، یعنی خدا تک پہنچنے کے لئے ایک پیر و مرشد کی رہبری اور رہنمائی ضروری ہے، چنانچہ سکھوں میں دس گرو گذرے ہیں، پہلے گرو ’’راہنا‘‘ کو نانک صاحب نے ’’انگد‘‘ کا خطاب دیا، گرو ’’انگد‘‘ نے گرونانک صاحب اور دوسرے صوفی سنتوں کا کلام لکھنے کے لئے سکھوں کا اپنا رسم الخط ’’گور مکھی‘‘ ایجاد کیا۔

تیسرے گرو ’’امر داس‘‘ زیادہ مشہور ہوئے، جنہوں نے سکھ عقیدت مندوں کو منظم کرنے کے لئے بڑی خدمات سر انجام دیں۔

چوتھے گرو ’’رام داس‘‘ نے سکھوں کی شادی اور مرنے کی رسومات ہندو مذہب سے الگ متعین کیں، ’’ستی‘‘ کی رسم کی مخالفت کی اور بیواؤں کی شادی پر زور دیا۔

پانچویں گرو ’’ارجن سنگھ‘‘ نے ’’گرو گرنتھ صاحب‘‘ تیار کی، امرتسر کے تالاب میں سکھوں کے لئے ایک مرکزی عبادت گاہ ’’ہری مندر‘‘ کی تعمیر کی، جسے اب ’’دربار صاحب‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

گرو ارجن سنگھ نے سکھوں سے ’’دسونتھ‘‘ یعنی عشرہ وصول کرنے کا انتظام کیا اور تین شہر ’’ ترن تارن، کرتار پور اور ہر گوبند پور‘‘ آباد کئے، پھر اس کی بادشاہِ وقت جہانگیر سے مخالفت ہوگئی، جہانگیر نے گرو ارجن سنگھ کو قتل کروادیا اور اس کا مال و اسباب سب ضبط کرلیا۔

نویں گرو ’’تیغ بہادر‘‘ تھے، دس سال تک گرو رہے، اورنگ زیب عالمگیر انہیں دہلی بلوایا اور اسلام پیش کیا، انکار پر قتل کرادیا۔

دسویں اور آخری گرو تیغ بہادر کے بیٹے ’’گرو گوبند سنگھ‘‘ تھے، انہوں نے سکھوں کو منظم کرنے کے لئے باضابطہ ارادت کا سلسلہ شروع کیا، وفاداری کے سخت ترین امتحان کے بعد مختلف ذاتوں سے تعلق رکھنے والے پانچ سکھوں کو ایک مخصوص رسم ’’امرت چکھنا‘‘ کے ذریعہ حلقہ مریدین میں داخل کیا اور انہیں ’’خالصہ‘‘ کا لقب دیا، اس کے بعد اس حلقہ میں عمومی داخلہ ہوا اور ہزاروں سکھ ’’خالصہ‘‘ میں داخل ہوئے، گرو گوبند سنگھ (شیر) اور عورتوں کے لئے ’’کور‘‘ (شہزادی) کا استعمال اور ’’ک‘‘ سے شروع ہونے والی پانچ چیزوں کا رکھنا ضروری قرار دیا:

(۱) کیس یعنی بال۔ (۲) کنگھا۔ (۳) کڑا (ہاتھ میں پہننے کے لئے)۔ (۴) کچھ یعنی جانگینہ۔ (۵)کرپان یعنی تلوار۔

(ہندوستانی مذاہب:۶۴ تا ۶۶)

گرو گوبند سنگھ کی شروع سے ہی مغل حکومت سے مخالفت رہی، ’’خالصہ‘‘ کی تشکیل کے بعد مغل حکومت سے لڑنے کے لئے انہوں نے فوجی کار روائیاں شروع کیں، لیکن اورنگ زیب عالمگیر کے مقابلہ میں انہیں سخت فوجی ہزیمت اٹھانی پڑی، ان کی فوجی قوت پارہ پارہ ہوئی اور ان کے خاندان کے تمام افراد بھی مارے گئے، گرو گوبند سنگھ نے بھیس بدل کر زندگی کے آخری ایام ’’دکن‘‘ میں گذارے جہاں دو افغانیوں نے انہیں قتل کردیا۔

گرو گوبند سنگھ نے یہ طے کردیا تھا کہ آئندہ سکھوں کا گرو نہ ہوگا؛ بلکہ ان کی مذہبی کتاب ’’گرنتھ صاحب‘‘ ہی ہمیشہ گرو کا کام دے گی۔

(ہندوستانی مذاہب:۶۶)